صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار بأن على المرء عند العدم النظر إلى ما ادخر له من الأجر دون التلهف على ما فاته من بغيته باب: پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر عدم کے وقت واجب ہے کہ وہ اس اجر کی طرف دیکھے جو اس کے لیے ادھر رکھا گیا، نہ کہ اس پر بے تابی کرے جو اس کی خواہش سے فوت ہوا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ ، وَهُمْ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ ، حَتَّى يَقُولَ الأَعْرَابُ : إِنَّ هَؤُلاءِ لَمَجَانِينَ ، فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ، لأَحْبَبْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَاقَةً وَحَاجَةً " ، قَالَ فَضَالَةُ : وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ .سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہوتے تھے، تو بعض لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے نماز کے دوران گر پڑا کرتے تھے، یہ اہل صفہ تھے، یہاں تک کہ دیہاتی یہ کہا: کرتے تھے: یہ لوگ پاگل ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” اگر تم لوگوں کو یہ بات پتہ چل جائے کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا کیا اجر و ثواب ہے، تو تم لوگ اس بات کو پسند کرو گے کہ تمہارے فاقہ اور بھوک میں اضافہ ہو جائے ۔“ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس دن میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔