صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن العلم بأمر الدنيا مع الانهماك فيها والجهل بأمر الآخرة ومجانبة أسبابها- باب: - اس ممانعت کا ذکر کہ دنیا کے امور کے علم میں ڈوب جانا اور آخرت کے علم سے جاہل رہنا اور اس کے اسباب سے دور رہنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 72
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ كُلَّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ سَخَّابٍ بِالأَسْوَاقِ ، جِيفَةٍ بِاللَّيْلِ ، حِمَارٍ بِالنَّهَارِ ، عَالِمٍ بِأَمْرِ الدُّنْيَا ، جَاهِلٍ بِأَمْرِ الآخِرَةِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شکاللہ تعالیٰ ہر سخت مزاج، متکبر، کنجوس اور بازاروں میں چیخ کر بولنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے، جو رات کو مردار (کی طرح) سوتا ہے، اور دن کے وقت گدھے (کی طرح وقت گزارتا ہے)۔ وہ دنیاوی امور کے بارے میں واقفیت رکھتا ہے، لیکن آخرت کے بارے میں جاہل ہوتا ہے ۔“