صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه- باب: - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ موقف کی صحت پر صراحت کرتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لا يَعْلَمُهَا إِلا الِلَّهِ : لا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ أَحَدٌ إِلا الِلَّهِ ، وَلا مَا فِي غَدٍ إِلا الِلَّهِ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ إِلا الِلَّهِ ، وَلا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ أَحَدٌ إِلا الِلَّهِ " .عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ ان کا علم صرفاللہ تعالیٰ کو ہے۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم کس چیز کو جنم دے گا؟ اور نہ ہیاللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور یہ بات جانتا ہے، کل کیا ہو گا؟ “اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی یہ بات نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی؟ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ پر فوت ہو گا؟ اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی؟