صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر الإخبار بأن الإمعان في الدنيا يضر في العقبى كما أن الإمعان في طلب الآخرة يضر في فضول الدنيا باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ دنیا میں حد سے زیادہ لگاؤ آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسے آخرت کی طلب میں حد سے زیادہ لگاؤ دنیا کے فضول کو نقصان پہنچاتا ہے
حدیث نمبر: 709
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص دنیا سے محبت رکھتا ہے یہ چیز اس کی آخرت کو نقصان پہنچاتی ہے، جو شخص آخرت سے محبت رکھتا ہے، تو یہ چیز اس کی دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے، تو جو چیز باقی رہنے والی ہے، تم اسے اس چیز پر ترجیح دو، جو فنا ہو جائے گی ۔“