صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من قلة التلهف عند فوته البغية في غدوه باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنی خواہش کے فوت ہونے پر صبح کے وقت بے تابی کم کرے
حدیث نمبر: 708
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا ، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهَا " فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا " .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں موجود تھے۔ آپ پر سورۃ مرسلت نازل ہوئی۔ آپ نے اس کی تلاوت کی میں نے آپ کی زبانی اس کو سکھ لیا یہ کچھ دیر پہلے آپ پر نازل ہوئی تھی۔ اسی دوران ایک سانپ نکل کر ہمارے سامنے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مار دو! ہم تیزی سے اس کی طرف لپکے، تو وہ چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تمہارے نقصان سے بچا لیا گیا جس طرح تمہیں اس کے شر سے بچا لیا گیا۔