صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من قلة التلهف عند فوته البغية في غدوه باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنی خواہش کے فوت ہونے پر صبح کے وقت بے تابی کم کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1 فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ رَطْبٌ بِهَا ، فَمَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة الأعراف آية 185 أَوْ إِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لا يَرْكَعُونَ سورة المرسلات آية 48 ، فَسَبَقَتْنَا حَيَّةٌ ، فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُقِيتُمْ شَرَّهَا ، كَمَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ " .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں موجود تھے آپ پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔ تو میں نے آپ کی زبانی اس سورۃ کو سیکھ لیا حالانکہ یہ ابھی کچھ دیر پہلے آپ پر نازل ہوئی تھی: مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کون سی آیت پر اسے ختم کیا تھا؟ «فباي حديث بعده يومنون» پر یا پھر اس آیت پر «واذا قبل لهم اركعو الا يركعون »اسی دوران ایک سانپ نکل کر آ گیا اور پھر اپنے بل میں داخل ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو اس کے شر سے بچا لیا گیا جس طرح اسے تمہاری طرف سے پہنچنے والے نقصان سے بچایا گیا۔