صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر استحباب الاقتناع للمرء بما أوتي من الدنيا مع الإسلام والسنة باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی دنیا میں ملنے والی چیزوں پر اسلام اور سنت کے ساتھ قناعت کرے
حدیث نمبر: 705
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الإِسْلامِ ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِهِ " .سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اس شخص کے لئے مبارکباد ہے، جسے اسلام کی طرف ہدایت دی گئی۔ ضروریات کے مطابق اسے چیزیں دی گئیں اور اس کواللہ تعالیٰ نے اس چیز پر قناعت عطا کی ۔“