صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر البيان بأن ما ارتفع من هذه الأشياء لا بد له أن يتضع لأنها قذرة خلقت للفناء باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو کچھ بلند ہوتا ہے اسے لازماً پست ہونا پڑتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ناپاک ہیں اور فنا کے لیے بنائی گئی ہیں
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءُ لا تُسْبَقُ كُلَّمَا سَابَقُوهَا ، سَبَقَتْ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ ، فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى رَأَى ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْقَذِرَةِ إِلا وَضَعَهَا اللَّهُ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء سے آگے کوئی نہیں نکل سکتا تھا جب بھی اس کے ساتھ مقابلہ ہوتا تھا وہ آگے نکل جاتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی ایک اونٹ پر بیٹھ کر آیا۔ اس نے اس اونٹنی کے ساتھ مقابلہ کیا، تو وہ آگے نکل گیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو گراں گزری جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر یہ چیز ملاحظہ کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر یہ بات لازم ہے کہ اس دنیا میں جب کسی چیز کو سر بلندی عطا کرے، تو اسے پستی بھی عطا کرے ۔“