صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر الإخبار عن الوصف الذي يجب أن يكون المرء في هذه الدنيا الفانية الزائلة باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اس فانی دنیا میں آدمی کو کیسا ہونا چاہیے
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي أَوْ قَالَ : بِمَنْكِبَيَّ ، فقَالَ : " كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِذَا أَصْبَحْتَ ، فَلا تَنْتَظِرُ الْمَسَاءَ ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلا تَنْتَظِرُ الصَّبَّاحَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ ، وَمَنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ " . وَقَالَ إِسْحَاقُ : قَالَ الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ : مَا سَأَلَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ إِلا هَذَا الْحَدِيثَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میرے دونوں کندھوں کو پکڑا اور فرمایا: ” تم دنیا میں یوں رہو جیسے تم اجنبی ہو یا تم مسافر ہو ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرمایا کرتے تھے جب تم صبح کر لو، تو شام کا انتظار نہ کرو اور جب شام کر لو، تو صبح کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے اپنی صحت کو اور مرنے سے پہلے اپنی زندگی کو غنیمت سمجھو۔
اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: حسن بن قزعہ بیان کرتے ہیں: یحییٰ بن معین نے مجھ سے صرف اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ہے۔