صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر ما يستحب للمرء أن يذود نفسه من هذه الغرارة الزائلة ببذل ما يملك منها لغيره باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اس فانی دنیا سے اپنی ذات کو بچائے اور جو کچھ اس کے پاس ہے اسے دوسروں کے لیے خرچ کرے
حدیث نمبر: 695
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَجَعَلَ يَقْبِضُ الْقَبْضَةَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ، ثُمَّ يَقْبِضُ الْقَبْضَةَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بعض أَزْوَاجِهِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَإِنَّهُ لَيَشْتَهِيهِ " ، فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَإِنَّهُ لَيَشْتَهِيهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تازہ کھجوروں کا ایک تھال بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی میں کھجوریں لے کر انہیں اپنی ایک زوجہ محترمہ کی طرف بھجوا دیا پھر آپ نے مٹھی میں کھجوریں لیں اور اپنی ازواج کی طرف بھجوا دیا پھر آپ نے انہیں بھجوا دیا اور آپ کو اس بات کی خواہش بھی تھی آپ نے کئی مرتبہ ایسا کیا اور آپ کو اس بات کی خواہش بھی تھی۔