صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر ما يستحب للمرء أن تعزف نفسه عما يؤدي إلى اللذات من هذه الفانية الغرارة باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی طبیعت کو اس فانی دنیا کی لذتوں سے دور رکھے
حدیث نمبر: 693
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ صَوْتَ زُمَّارَةِ رَاعٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَعَدَلَ عَنِ الطَّرِيقِ وَجَعَلَ ، يَقُولُ : يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ ؟ فَأَقُولُ : نَعَمْ ، فَلَمَّا قُلْتُ : لا ، رَاجَعَ الطَّرِيقَ ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں اور راستے سے ایک طرف ہٹ گئے وہ یہ فرماتے جا رہے تھے: اے نافع! کیا تمہیں آواز آ رہی ہے؟ میں جواب دیتا تھا جی ہاں! جب میں نے کہا: اب نہیں آ رہی، تو وہ واپس راستے پر آ گئے پھر انہوں نے فرمایا ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔“