صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر إثبات نضارة الوجه في القيامة من بلغ للمصطفى صلى الله عليه وسلم سنة صحيحة كما سمعها- باب: - قیامت کے دن اس شخص کے چہرے کے روشن ہونے کا ذکر جو نبی کریم ﷺ کی صحیح سنت کو جیسے سنا ویسے ہی آگے پہنچائے۔
حدیث نمبر: 69
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَضَّرَ الِلَّهِ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا ، فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ " .عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے، جو ہم سے کوئی بات سنے اور جس طرح اسے سنا تھا، اسی طرح آگے پہنچا دے، کیونکہ بعض اوقات (براہ راست) سننے والے کے مقابلے میں وہ شخص زیادہ بہتر طور پر محسوس کر سکتا ہے، جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہو ۔“