صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر البيان بأن بعض الفقراء في بعض الأحوال قد يكونون أفضل من بعض الأغنياء في بعض الأحوال باب: فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ بعض حالات میں بعض فقراء بعض مالداروں سے افضل ہو سکتے ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ : " انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَيْنَيْكَ " فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ جَالِسٌ يُحَدِّثُ قَوْمًا ، فَقُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : " انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَيْنَيْكَ " ، قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رُوَيْجِلٌ مِسْكِينٌ فِي ثَوْبٍ لَهُ خَلْقٍ ، قُلْتُ : هَذَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَرَارِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا " .سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھا اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا: تم مجھے دیکھ کر بتاؤ کہ مسجد میں تمہارے سامنے کون سا شخص سب سے بلند تر حیثیت کا مالک ہے؟ میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں ایک شخص حلہ پہن کر لوگوں کے ساتھ بیٹھا بات چیت کر رہا تھا میں نے جواب دیا: یہ والا شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اب اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارے سامنے کون سا شخص سب سے کم تر حیثیت کا مالک ہے، تو میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں ایک غریب سا شخص پرانے سے کپڑوں میں بیٹھا ہوا تھا میں نے عرض کی: یہ والا شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ (غریب شخص) قیامت کے دناللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس (امیر آدمی جیسے) زمین بھر لوگوں سے بہتر ہو گا۔