صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الخوف والتقوى - ذكر البيان بأن المرء إذا تواجد عند وعظ كان له ذلك باب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جب آدمی وعظ کے وقت جذباتی ہو جاتا ہے تو اس کے لیے وہ نفع دیتا ہے
حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا ، وَهُوَ بِالْكُوفَةِ " سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ ، عَلَى رِجْلَيْهِ .سیدنا نعمان بن بشیر، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں ۔“ (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری جگہ پر کھڑے ہوئے ہوتے۔ سیدنا نعمان اس وقت کوفہ میں تھے، تو بازار کے رہنے والے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لیتے، یہاں تک کہ (جوش زیادہ ہونے کی وجہ سے) آپ کے کندھے پر موجود چادر آپ کے پاؤں میں گر گئی تھی۔