صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الخوف والتقوى - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك الاتكال على موجود الطاعات دون التسلق بالاضطرار إليه في الأحوال باب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ موجود طاعتوں پر بھروسہ نہ کرے بغیر اس کے کہ وہ حالات میں اس کی طرف اضطرار سے رجوع کرے
حدیث نمبر: 660
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا " قَالُوا : وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلا أَنَا ، إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي بِمَغْفِرَةٍ وَفَضْلٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم میں سے کسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا تاہم تم لوگ میانہ روی اختیار کرو اور انتہا پسندی سے گریز کرو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں، البتہ مجھےاللہ تعالیٰ نے مغفرت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ۔“