صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الخوف والتقوى - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من قلة الأمن من عذاب الله نعوذ به منه وإن كان مشمرا في أسباب الطاعات جهده باب: خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے امن کی کمی رکھے، ہم اس سے پناہ مانگتے ہیں، چاہے وہ طاعت کے اسباب میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہو
حدیث نمبر: 658
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ ، أَوْ غَيْمٍ ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ ، سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ ذَلِكَ عَنْهُ ، فَسُئِلَ ، فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا والے دن یا بارش والے دن پریشان ہو جایا کرتے تھے۔ آپ ادھر ادھر آیا جایا کرتے تھے جب بارش شروع ہو جاتی تھی، تو آپ خوش ہو جایا کرتے تھے اور آپ کی پریشانی ختم ہو جاتی تھی آپ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” مجھے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو، جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو ۔“