صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
باب الزجر عن كتبة المرء السنن مخافة أن يتكل عليها دون الحفظ لها- باب: - اس ممانعت کا بیان کہ کوئی شخص صرف لکھنے پر اکتفا نہ کرے تاکہ وہ سنن کو یاد کرنے سے غافل نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 65
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " تَرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا طَائِرٌ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلا عِنْدَنَا مِنْهُ عِلْمٌ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى " عِنْدَنَا مِنْهُ " يَعْنِي بِأَوَامِرِهِ وَنَوَاهِيَهِ ، وَأَخْبَارِهِ ، وَأَفْعَالِهِ ، وَإِبَاحَاتِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے رخصت ہوئے، تو پروں کے ساتھ اڑنے والے ہر پرندے، کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ” کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا “ سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر، نواہی، اطلاعات، افعال اور مباح قرار دینے کے حوالے سے (ہمیں علم مل چکا تھا)۔