صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب حسن الظن بالله تعالى - ذكر الإخبار عن تفضل الله جل وعلا بأنواع النعم على من يستوجب منه أنواع النقم باب: اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے اس پر نعمتوں کی انواع عطا کرتا ہے جو عذاب کی انواع کا مستوجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 642
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ ، يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا ، وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ " .سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کوئی بھی شخص کسی بھی تکلیف دہ بات کو سن کراللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر نہیں کرتا، لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔ لوگ اس کی اولاد قرار دیتے ہیں اور وہ اس کے باوجود ان لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ ان کو عافیت دیتا ہے ان کو (مختلف طرح کی نعمتیں) عطا کرتا ہے ۔“