صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب حسن الظن بالله تعالى - ذكر البيان بأن حسن الظن الذي وصفناه يجب أن يكون مقرونا بالخوف منه جل وعلا باب: اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہم نے جو حسن ظن بیان کیا وہ اللہ جل وعلا سے خوف کے ساتھ ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 640
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : " وَعِزَّتِي لا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَأَمْنَيْنِ ، إِذَا خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِذَا أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں اپنے کسی بندے پر دو طرح کا خوف اور دو طرح کا امن اکٹھا نہیں کروں گا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے خوف رکھے گا، تو میں قیامت میں اسے امن عطا کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے مامون رہے گا، تو میں قیامت میں اسے خوف میں مبتلا کروں گا ۔“