صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب حسن الظن بالله تعالى - ذكر البيان بأن الله جل وعلا يعطي من ظن ما ظن إن خيرا فخير وإن شرا فشر باب: اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اسے وہی دیتا ہے جو اس نے گمان کیا، اگر خیر تو خیر اور اگر شر تو شر
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ أَنَّ أَبَا يُونُسَ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَقُولُ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَلَهُ ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو يُونُسَ هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ تَابِعِيٌّ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیشکاللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اگر وہ بھلائی کا گمان رکھتا ہے، تو وہ اسے مل جائے گی اور اگر وہ برائی کا گمان رکھتا ہے، تو وہ اسے مل جائے گی ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابویونس نامی راوی کا نام سلیم بن جبیر ہے، اور یہ تابعی ہے۔