صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب حسن الظن بالله تعالى - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من مجانبة سوء الظن بالله عز وجل وإن كثرت حياته في الدنيا باب: اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ عز وجل پر بدگمانی سے بچے، چاہے اس کی دنیاوی زندگی کتنی ہی طویل ہو
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ : قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ " .سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ” میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان کر لے ۔“