صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الحياء - ذكر البيان بأن الحياء جزء من أجزاء الإيمان إذ الإيمان شعب لأجزاء على ما تقدم ذكرنا له باب: شرم و حیا کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ شرم و حیا ایمان کے اجزاء میں سے ایک جز ہے کیونکہ ایمان شعبوں اور اجزاء پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا
حدیث نمبر: 610
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " دَعْهُ " لَفْظَةُ زَجْرٍ يُرَادُ بِهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ .سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں تلقین کر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے رہنے دو، کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): روایت کے یہ الفاظ: ” تم اسے چھوڑ دو ۔“ اس سے مراد ایسی ممانعت ہے، جو معاملے کے آغاز میں نئے سرے سے ہو۔