صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب الصحبة والمجالسة - ذكر الشيء الذي إذا قاله المرء عند القيام من مجلسه ختم له به إذا كان مجلس خير وكفارة له إذا كان مجلس لغو باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ اگر آدمی اسے اپنی مجلس سے اٹھتے وقت کہے تو اس کے لیے خیر کی مجلس کو ختم کیا جاتا ہے اور اگر لغو مجلس ہو تو اس کی کفارہ ہوتی ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ : " كَلِمَاتٌ لا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِ لَغْوٍ أَوْ مَجْلِسِ بَاطِلٍ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلا كَفَّرَتْهُنَّ عَنْهُ ، وَلا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ ، إِلا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنِي بِنَحْوِ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ کلمات ایسے ہیں، جو بھی شخص کسی لغو محفل میں، یا باطل محفل میں موجود رہا ہو اور وہاں اٹھتے وقت ان کلمات کو تین مرتبہ پڑھ لے، تو یہ کلمات اس کا کفارہ بن جائیں گے اور جو شخص کسی بھی بھلائی کی محفل میں، یا ذکر کی محفل میں ان کلمات کو پڑھ لے گا، تو ان کلمات پر اس کے نام کی مہر لگ جائے گی۔ جس طرح کسی صحیفے پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (وہ کلمات یہ ہیں) ” تو پاک ہے، اے اللہ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔“
عمرو نامی راوی بیان کرتے ہیں: اسی طرح کی روایت عبدالرحمان بن ابوعمرو نے مقبری کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہونے کے طور پر مجھے سنائی تھی۔