صحیح ابن حبان
كتاب الأضحية— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن أن يضحي المرء بأربعة أنواع من الضحايا- باب: - ذکر منع کہ انسان چار قسم کی قربانیوں سے قربانی کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ ذَكَرَ الأَضَاحِيَّ فَقَالَ : أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ : " أَرْبَعٌ لا يُضَحَّى بِهِنَّ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا ، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لا تُنْقِي " ، فَقَالُوا لِلْبَرَاءِ : فَإِنَّمَا نَكْرَهُ النَّقْصَ فِي السِّنِّ ، وَالأُذُنِ ، وَالذَّنَبِ ، قَالَ : فَاكْرَهُوا مَا شِئْتُمْ ! وَلا تُحَرِّمُوا عَلَى النَّاسِ .سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے قربانی کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا ویسے میرا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار طرح کے جانوروں کی قربانی نہیں کی جا سکتی ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری نمایاں ہو، ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور اتنا کمزور جانور جس کے جسم میں گودا ہی نہ ہو۔ لوگوں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ہم تو ایسے جانور کو بھی ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں، جس کے دانتوں یا کان یا دم میں کوئی نقص ہو تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ جسے چاہو ناپسند سمجھو لیکن لوگوں کے لیے اسے حرام قرار نہ دو۔