صحیح ابن حبان
كتاب الأضحية— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن هذا الفعل إنما زجر عنه لمن عنده أضحية يريد ذبحها وأهل عليه هلال ذي الحجة وهي عنده دون من اشتراها بعد هلاله عليه- باب: - ذکر بیان کہ اس فعل سے منع اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس قربانی ہو اور وہ اسے ذبح کرنا چاہتا ہو اور ذی الحجہ کا ہلال اس پر نکل آیا ہو، نہ کہ اس کے لیے جو اسے ہلال کے بعد خریدے
حدیث نمبر: 5917
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارَ بْنِ أُكَيْمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ ، فَإِذَا أَهَلَّ هِلالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ " .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جس شخص نے قربانی کرنی ہو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے تو وہ شخص اپنے بال نہ کاٹے اور اپنے ناخن نہ کاٹے جب تک قربانی نہیں کر لیتا۔ “