صحیح ابن حبان
كتاب الأضحية— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن هذا الأمر أمر به غير هذين أيضا في أول ابتداء إنشاء العيد حيث جهلوا كيفية الأضحية في ذلك اليوم- باب: - ذکر بیان کہ اس امر کا حکم ان دونوں کے علاوہ بھی دیا گیا جب عید کی ابتدا میں لوگوں کو قربانی کا طریقہ معلوم نہ تھا
أَخْبَرَنَا الْجُنَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا نَاسٌ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ " .سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قربانی کی کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے اپنے جانور قربان کر لیے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا کہ وہ لوگ نماز سے پہلے ہی جانور ذبح کر چکے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تھا وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس شخص نے ذبح نہیں کیا تھا، یہاں تک کہ ہم نے نماز ادا کر لی تو اب وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کر لے۔