صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب اللعب واللهو - ذكر جواز لعب المرأة إذا كان لها زوج وهي غير مدركة باللعب- باب: کھیل کود اور لہو و لعب کا بیان - ذکر اجازت کہ عورت کھیل سکتی ہے اگر اس کا شوہر ہو اور وہ کھیل میں غیر بالغ ہو
حدیث نمبر: 5863
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " فَكُنَّ يَأْتِينِي صَوَاحِبِي ، فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ ، فَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں گڑیا کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں میرے پاس آ جاتی تھیں جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی تھیں تو اٹھ کر چلی جاتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے ساتھ کھیلنے کے لیے میری طرف بھیج دیتے تھے۔