صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الأسماء والكنى - ذكر خبر ثان يصرح بأن استعمال المصطفى صلى الله عليه وسلم ما وصفناه كان على سبيل التفاؤل لا التطير- باب: ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے بیان کردہ کا استعمال خوش فہمی کے لیے تھا نہ کہ بدشگونی کے لیے
حدیث نمبر: 5827
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لا يَتَطَيَّرُ مِنَ شَيْءٍ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَرْضًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا ، فَإِنْ كَانَ حَسَنًا رُؤيَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ قَبِيحًا رُؤيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ " .ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے ذریعے فال حاصل نہیں کرتے تھے تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی علاقے میں آتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کے نام کے بارے میں دریافت کرتے تھے اگر اس کا نام اچھا ہوتا تھا، تو اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر محسوس ہو جاتا تھا اور اگر اس کا نام برا ہوتا تھا، تو اس کا اثر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر محسوس ہو جاتا تھا۔