صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب الصحبة والمجالسة - ذكر الخبر الدال على أن تناجي المسلمين بحضرة اثنين جائز باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دو افراد کی موجودگی میں سرگوشی کرنا جائز ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ ، وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ ، فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلا ، حَتَّى كُنَّا أَرْبَعَةً ، فقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَا ، اسْتَرْخِيَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، خالد بن عتبہ کے بازار میں موجود گھر کے پاس موجود تھے۔ وہاں ایک شخص آیا اور اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرنا چاہی۔ اس وقت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ میرے علاوہ اور اس شخص کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا جو ان کے ساتھ سرگوشی میں بات کرنا چاہتا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اور شخص کو بلوایا، یہاں تک کہ ہم چار افراد ہو گئے، تو انہوں نے مجھے اور جس شخص کو انہوں نے بلوایا تھا اسے یہ کہا: کہ تم دونوں پرے ہو جاؤ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” دو آدمی ایک کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں ۔“