صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب الصحبة والمجالسة - ذكر الزجر عن تناجي المسلمين وبحضرتهما إنسان ثالث باب: دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ دو مسلمان دوسروں کی موجودگی میں سرگوشی کریں جبکہ تیسرا شخص موجود ہو
حدیث نمبر: 581
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُكَلِّمُهُ ، فقَالَ لَهُمَا : اسْتَرْخِيَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میرے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ ایک اور شخص آیا اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں صاحبان سے کہا: آپ دونوں پرے ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں ۔“