صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب المزاح والضحك - ذكر وصف البيان في الكلام الذي هو محمود- باب: مزاح اور ہنسی کا بیان - ذکر وصف کہ کلام میں وضاحت محمود ہے
حدیث نمبر: 5796
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْبَيَانُ مِنَ اللَّهِ ، وَالْعِيُّ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلَيْسَ الْبَيَانُ كَثْرَةَ الْكَلامِ ، وَلَكِنَّ الْبَيَانَ الْفَصْلُ فِي الْحَقِّ ، وَلَيْسَ الْعِيُّ قِلَّةَ الْكَلامِ ، وَلَكِنْ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور عیی شیطان کی طرف سے ہے بیان سے مراد بکثرت کلام کرنا نہیں ہے بلکہ بیان سے مراد حق کے درمیان فصل پیدا کرنا ہے اور عیی سے مراد کم گفتگو کرنا نہیں ہے بلکہ حق کے معاملے میں بے وقوفی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ “