صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الشعر والسجع - ذكر إباحة إنشاد المرء الشعر الذي لا يكون فيه هجاء مسلم ولا ما لا يوجبه الدين- باب: شاعری اور مسجع کلام کا بیان - ذکر اجازت کہ انسان وہ شعر پڑھے جس میں کسی مسلمان کا ہجو یا دین کے خلاف کوئی بات نہ ہو
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " هِيهِ " ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : " هِيهِ " ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ : " هِيهِ " وَأُنْشِدُهُ حَتَّى أَتْمَمْتُ مِائَةَ بَيْتٍ .عمرو بن شرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہیں امیہ بن ابوصلت کا کوئی شعر یاد ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیش کرو۔ میں نے آپ کو ایک شعر سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور سناؤ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سنایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے یہی فرماتے رہے: اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سو اشعار سنائے۔