صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الشعر والسجع - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الأشعار بكليتها لا يجب أن يشتغل بها- باب: شاعری اور مسجع کلام کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ تمام اشعار سے مکمل طور پر مشغول ہونا مناسب نہیں
حدیث نمبر: 5780
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ أَبُو الطَّيِّبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلامٍ بَيِّنٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے خوب صورت کلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض شعر حکمت ہوتے ہیں۔