صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الغيبة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك الوقيعة في المسلمين وإن كان تشميره في الطاعات كثيرا- باب: غیبت کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی عیب جوئی سے باز رہے خواہ وہ اطاعت میں کتنا ہی بڑھا ہوا ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلانَةً ذَكَرَ مِنْ كَثْرَةِ صَلاتِهَا ، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي بِلِسَانِهَا ، قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلانَةً ذَكَرَ مِنْ قِلَّةِ صَلاتِهَا وَصِيَامِهَا ، وَأَنَّهَا تَصَدَّقَتْ بِأَثْوَارِ أَقِطٍ ، غَيْرَ أَنَّهَا لا تُؤْذِي جِيرَانَهَا ، قَالَ : " هِيَ فِي الْجَنَّةِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! فلاں عورت اس طرح کی ہے اس نے اس عورت کی بکثرت نفل نمازوں کا ذکر کیا اور یہ کہا: کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے (دوسروں) کو اذیت پہنچاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جہنم میں جائے گی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فلاں عورت ایسی ہے پھر اس نے اس عورت کی نمازوں اور روزوں کی قلت کا ذکر کیا اور یہ بتایا: وہ پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔