صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ذي الوجهين - ذكر الإخبار بأن ذا الوجهين من الناس يكون من شرار الناس في يوم القيامة- باب: دو رُخے (دو مُنہ والے) شخص کا بیان - ذکر خبر کہ دوغلا انسان قیامت کے دن بدترین لوگوں میں سے ہوگا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقُهُوا ، وَتَجِدُونَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هَذَا الأَمْرِ أَكْرَهَهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَتَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاءِ بِوَجْهٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم لوگوں کو معدنیات کی شکل میں پاؤ گے ان میں سے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے شمار ہوں گے جبکہ وہ (دینی احکام کی) سمجھ بوجھ حاصل کر لیں اور اس معاملے کے بارے میں تم لوگوں میں سب سے بہتر اس شخص کو پاؤ گے جو اسے سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو اس سے پہلے کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے اور تم لوگوں میں سب سے زیادہ برا دوغلے شخص کو پاؤ گے جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس اس چہرے کے ساتھ جاتا ہے۔ “