صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب اللعن - ذكر الزجر عن أن يلعن المرء أخاه المسلم دون أن يأتي بمعصية تستوجب منه إياها- باب: لعنت کرنے کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کو لعنت کرے جبکہ اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو جو اس کا مستوجب ہو
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : وَرُبَّمَا بَاتَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ : فَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ خَادِمًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، فَقَالَتْ لا تَلْعَنْهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّعَّانَيْنَ لا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ ، وَلا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: عبدالملک نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ خاتون بعض اوقات ان کے ہاں قیام بھی کر لیتی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: عبدالملک نے اپنے خادم کو بلوایا اسے آنے میں دیر ہو گئی تو عبدالملک نے کہا: اے اللہ اس پر لعنت کر دے۔ اس خاتون نے کہا: تم اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ” بے شک لعنت کرنے والے لوگ قیامت کے دن نہ، تو شہید ہوں گے اور نہ شفیع ہوں گے۔ “