صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عن وصف المستبين اللذين يكذبان في سبابهما- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ اس گالی دینے والوں کی جو اپنی گالیوں میں جھوٹ بولتے ہیں
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَشْتُمُنِي مِنْ قَوْمِي وَهُوَ دُونِي ، أَعَلَيَّ مِنْ بَأْسٍ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْمُسْتَبِّ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ ، إِذِ الشَّيْطَانُ دَلَّهُ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ ، حَتَّى تَهَاتَرَ وَتَكَاذَبَ ، لا أَنَّ الْمُسْتَبَّيْنِ يَكُونَانِ شَيْطَانَيْنِ .سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری قوم کا ایک شخص مجھے برا کہتا ہے وہ مجھ سے کم تر حیثیت کا مالک ہے تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اس سے کوئی انتقام لوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد دونوں شیطان ہوتے ہیں جو دونوں بات کو بڑھاتے ہیں اور غلط بیانی کرتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہنے والے شخص کے لیے لفظ شیطان مجاور ت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ شیطان اس شخص کی رہنمائی اس فعل کی طرف کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بات بڑھاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے برا کہنے والے دونوں افراد واقعی شیطان بن جاتے ہیں۔