صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عن وصف المستبين اللذين يكذبان في سبابهما- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ اس گالی دینے والوں کی جو اپنی گالیوں میں جھوٹ بولتے ہیں
حدیث نمبر: 5726
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي ، أَفَأَنْتَقِمُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ " .سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھے برا کہتا ہے وہ مجھ سے کم مرتبے کا مالک ہے کیا میں اس سے انتقام لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے کو گالی دینے والے دونوں افراد دو شیطان ہوتے ہیں وہ دونوں جھگڑا کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔