صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الزجر عن أن يقول المرء في أموره ما شاء الله وشاء محمد- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے معاملات میں یہ کہے کہ اللہ اور محمد نے چاہا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبَرِّيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ قَوْمًا مِنَ الْيَهُودِ ، فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَقَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : وَأَنْتُمْ قَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : وَلَقِيَ قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى ، فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ قَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : وَأَنْتُمْ قَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَصَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْكُمْ فَتُؤْذُونَنِي ، فَلا تَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ " .سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے خواب دیکھا کہ ان کی ملاقات کچھ یہودیوں سے ہوئی انہیں ان کی ہیت پسند آئی تو انہوں نے کہا: تم لوگ بالکل ٹھیک قوم ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ سیدنا عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ان یہودیوں نے کہا: تم لوگ بھی ٹھیک قوم ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو سیدنا محمد نے چاہا پھر ان کی ملاقات کچھ عیسائیوں سے ہوئی انہیں ان کی ہیت پسند آئی تو انہوں نے کہا: تم لوگ بالکل ٹھیک ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ سیدنا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں تو ان عیسائیوں نے بھی کہا: تم لوگ بھی بالکل ٹھیک ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ جو اللہ نے چاہا اور جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔ اگلے دن صبح انہوں نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں پہلے بھی یہ الفاظ تمہاری زبانی سنتا تھا اور تم اس کے ذریعے مجھے اذیت پہنچاتے تھے اب تم یہ نہ کہنا: جو اللہ نے چاہا اور جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔