صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الزجر عن أن يستعمل المرء في أسبابه اللو دون الانقياد بحكم الله جل وعلا فيها- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے معاملات میں لوگوں کے دباؤ کے بجائے اللہ جل وعلا کے حکم کی تعمیل کرے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَكُلٌّ عَلَى خَيْرٍ ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلا تَعْجِزْ ، فَإِنْ غَلَبَكَ شَيْءٌ ، فَقُلْ : قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک طاقتور مومن، کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ویسے دونوں بھلائی پر ہوتے ہیں تم اس چیز کا لالچ کرو جو تمہیں فائدہ دے گی اور تم عاجز نہ آ جاؤ اگر کوئی چیز تم پر غالب آ جائے تو تم یہ کہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر تھی جو اس کو منظور تھا (وہی ہوا) اور تم ” اگر “ کہنے سے بچو! (یعنی یہ کہنا کہ اگر یہ ہو جاتا، تو وہ ہو جاتا) کیونکہ ” اگر “ شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے۔ “