صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من مجانبة الكلام الكثير وتضييع المال- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ زیادہ کلام اور مال کے ضیاع سے بچے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " ، قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ : إِضَاعَةُ الْمَالِ : إِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ .امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری نے مجھے یہ بات بتائی: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ لکھوایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے فضول بحث کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت سوال کرنا (یا مانگنا) “ ابن علیہ کہتے ہیں: مال کو ضائع کرنے سے مراد یہ ہے: اسے ناحق طور پر خرچ کیا جائے۔