حدیث نمبر: 5718
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَامَ رَجُلانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَيْنِ ، فَتَكَلَّمَا ، ثُمَّ قَعَدَا ، فَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ ، فَعَجِبُوا مِنْ كَلامِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ ، فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلامِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان کرتے ہیں: مشرق کی طرف سے آنے والے دو آدمی خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ان دونوں نے بات چیت کی پھر وہ دونوں بیٹھ گئے پھر سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اللہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب تھے وہ کھڑے ہوئے انہوں نے بات چیت کی لوگوں کو ان کا کلام پسند آیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! عام محاور ے کے مطابق بات چیت کیا کرو کیونکہ کلام کو زیادہ بنانا سنوارنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5718
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1731)، «صحيح الأدب المفرد» (671). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5688»