صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر ما يجب على المرء من تحفظ اللسان عن ما يضحك به جلساؤه- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر اس بات کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو ایسی باتوں سے روکے جو اس کے ساتھیوں کو ہنسیں
حدیث نمبر: 5716
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ ، يَهْوِي بِهَا مِنْ أَبْعَدَ مِنَ الثُّرَيَّا " .سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ساتھیوں کو ہنسا دیتا ہے لیکن وہ اس کی وجہ سے (جہنم میں) اس سے زیادہ گہرائی میں جائے گا جتنا ثریا (ستارا اونچا ہے) “