صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر خبر ثان يصرح بأن الدهر ينسب إلى الله جل وعلا على حسب الخلق دون أن يكون ذلك من صفاته جل ربنا وتعالى عنه- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ زمانہ اللہ جل وعلا کی طرف مخلوق کے اعتبار سے منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ یہ اس کی صفات میں سے ہے، ہمارا رب اس سے بلند و بالا ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ : إِنَّمَا يُهْلِكُنَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ، هُوَ الَّذِي يُهْلِكُنَا ، وَيُمِيتُنَا ، وَيُحْيِينَا ، قَالَ اللَّهُ : إِنْ هِيَ إِلا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا سورة الأنعام آية 29 الآيَةَ " . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : " يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ ، يَسُبُّ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ ، بِيَدِي الأَمْرُ ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا " .سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ کہا: کرتے تھے ہمیں رات اور دن نے برباد کر دیا انہوں نے ہی ہمیں برباد کیا ہے انہوں نے ہی ہمیں موت دی ہے انہوں نے ہی ہمیں زندہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” یہ نہیں ہے مگر ہماری دنیاوی زندگی۔ “
زہری نے سعید بن مسیّب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے اذیت پہنچاتا ہے جب وہ زمانے کو برا کہتا ہے کیونکہ میں زمانہ ہوں معاملہ میرے دست قدرت میں ہے میں رات اور دن کو تبدیل کرتا ہوں جب میں چاہوں گا انہیں روک لوں گا۔ “