صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر البيان بأن المرء يهوي في النار نعوذ بالله منها بالشيء اليسير الذي يقوله وليس لله فيه رضا- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر بیان کہ انسان اس معمولی بات سے جو وہ کہتا ہے اور اس میں اللہ کی رضا نہیں ہوتی، نعوذ باللہ اس سے جہنم میں گرتا ہے
حدیث نمبر: 5706
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” آدمی کوئی بات کرتا ہے، جس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا، لیکن وہ اس بات کی وجہ سے ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا۔ “