صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الزجر عن استعمال المرء البذاء في أسبابه إذ البذاء من الجفاء- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے معاملات میں بدزبانی استعمال کرے کیونکہ بدزبانی جفاکشی سے ہے
حدیث نمبر: 5704
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذُرَيْحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ ، وَالْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ ، وَالإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ " .سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بدزبانی جفا کا حصہ ہے اور جفا جہنم میں لے جاتی ہے حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا۔ “