صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من حفظ لسانه لأن تعاهد اللسان أول مطية العباد- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے کیونکہ زبان کی حفاظت بندوں کی پہلی سواری ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَاعِزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَامِرِيِّ ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ؟ " فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا " ، مَاعِزُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، وَهُوَ مُتْقِنٌ .سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کہو کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر استقامت اختیار کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ کس بات کا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور پھر فرمایا: اس کا۔
ماعز نامی راوی کا نام ماعز بن عبدالرحمن ہے یہ بات زبیدی نے بیان کی ہے اور یہ راوی متقن ہے۔