صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر تخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته قلة حفظهم ألسنتهم- باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے ان کی زبانوں کے کم حفاظت پر خوف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ ، أَنَّ جَدَّهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " هَذَا ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ " .سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ کہو میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر (اس پر) استقامت اختیار کرو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس بات کا اندیشہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔