صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الاستماع المكروه وسوء الظن والغضب والفحش - ذكر الأمر بالاستعاذة بالله جل وعلا من الشيطان الرجيم لمن اعتراه الغضب- باب: ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر حکم کہ جو غصے میں مبتلا ہو وہ اللہ جل وعلا سے شیطان رجیم کی پناہ مانگے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ ، وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً ، لَوْ قَالَهَا ، لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " ، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ : أَلا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ " .سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کی بحث ہو گئی۔ ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے غصے کے عالم میں اپنے ساتھی کو برا کہنا شروع کیا۔ اس شخص کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے ایک ایسے کلمے کے بارے میں پتہ ہے اگر یہ اسے پڑھ لے تو اسے جو غصہ آ رہا ہے وہ ختم ہو جائے گا وہ کلمہ اعوذ بالله من الشیطن الرجیم ہے۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا: کیا تم نے سنا نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا: ہے تو اس نے کہا: میں پاگل نہیں ہوں۔ (یعنی میں نے سن لیا ہے)