صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الاستماع المكروه وسوء الظن والغضب والفحش - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ذم النفس عن الخروج إلى ما لا يرضي الله جل وعلا بالغضب- باب: ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نفس کو اس بات سے روکے کہ غصے میں وہ کام کرے جو اللہ جل وعلا کو ناپسند ہو
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ لِي قَوْلاً وَأَقْلِلْ ، قال : " لا تَغْضَبْ " ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ ، قَالَ : " لا تَغْضَبْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَغْضَبْ " ، أَرَادَ بِهِ أَنْ لا تَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الْغَضَبِ مِمَّا نَهَيْتُكَ عَنْهُ ، لا أَنَّهُ نَهَاهُ عَنِ الْغَضَبِ ، إِذِ الْغَضَبُ شَيْءٌ جِبِلَّةٌ فِي الإِنْسَانِ ، وَمُحَالٌ أَنْ يُنْهَى الْمَرْءُ عَنْ جِبِلَّتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا ، بَلْ وَقَعَ النَّهْيُ فِي هَذَا الْخَبَرِ عَمَّا يَتَوَلَّدُ مِنَ الْغَضَبِ مِمَّا ذَكَرْنَاهُ .سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیں اور مختصر بات عنایت کیجئے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم غصہ نہ کرنا ان صاحب نے دوبارہ آپ سے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی فرمایا تم غصہ نہ کرنا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” تم غصہ نہ کرنا “ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: غصے میں آنے کے بعد تم کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے میں نے منع کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ غصہ انسان کی فطرت میں شامل ہے اور یہ بات ناممکن ہے آدمی کو اس کی فطرت میں شامل موجود کسی چیز سے منع کیا جائے بلکہ یہ ممانعت اس چیز کے بارے میں ہے جو غصے کے نتیجے میں سامنے آتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔